بنیادی صفحہ / اہم ترین / مدینہ کی ریاست کے دعویدار حج اخراجات میں اضافہ کرکے لوگوں کو مکہ اور مدینہ جانے سے روک رہے ہیں۔

مدینہ کی ریاست کے دعویدار حج اخراجات میں اضافہ کرکے لوگوں کو مکہ اور مدینہ جانے سے روک رہے ہیں۔

پشاورامیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ مدینہ کی ریاست کے دعویدار حج اخراجات میں اضافہ کرکے لوگوں کو مکہ اور مدینہ جانے سے روک رہے ہیں۔ حکومت حاجیوں کی بددعائیں نہ لے۔ یہ کیسی مدینہ جیسی ریاست ہے جو عوام کے لیے حج مشکل بنارہی ہے۔ حکومت کی حج پالیسی ایک بڑی ناکامی ہے۔ حکومت کا حج اخراجات میں اضافہ عازمین حج پر ڈرون حملہ ہے۔ اشیا خوردونوش کو سستا نہیں کرسکتے تو حج اخراجات میں اضافہ واپس لیں۔ حکومت نے حج اخراجات پر کوئی سبسڈی نہیں دی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز سینیٹ میں حج اخراجات میں اضافہ کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ حکومت کی حج پالیسی مایوس کن ہے، حج پالیسی نے عوام کو پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔ حج اخراجات میں 60فیصد اضافہ کرکے حکومت نے عوام پر ظلم کیا ہے۔ حج اخراجات میں اضافہ پاکستانی عوام کی دسترس سے باہر ہے۔ حج بھی مہنگائی کی سونامی کی زد میں آگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی امور کی وفاقی وزارت کی طرف سے حکومت سے 45ہزار روپے سبسڈی کا مطالبہ کیا گیا ۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی حج پر سبسڈی کو جائز قرار دیا اور سفارش کی کہ قومی خزانے سے حجاج کرام کو سبسڈی دی جائے لیکن افسوس کی بات ہے کہ حکومت نے نہ تو وزارت مذہبی امور کی درخواست منظور کی اور نہ ہی اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش پر عمل کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت میں حج اخراجات بھی کم تھے اور سبسڈی بھی دی جاتی تھی۔ موجودہ حکومت نے حج کرایوں میں بھی اضافہ کیا اور سبسڈی بھی ختم کردی۔ پاکستان کے حج اخراجات بھارت، ایران، افغانستان اور بنگلہ دیش میں سب سے زیادہ ہے۔ اخراجات میں اضافے سے مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے افراد حج کی سعادت سے روکنا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت حج کے گزشتہ سال کے اخراجات بحال کرے، اور سبسڈی دی جائے۔ حج اخراجات کی پوری تفصیلات پارلیمنٹ میں پیش کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس سینیماگھر بحالی کے لئے تو اربوں روپے ہیں لیکن حج کے لئے کوئی سبسڈی نہیں ہے۔ پاکستانی عوام حج اخراجات میں اضافہ تسلیم نہیں کریں گے۔

تعارف: عارف محمود

جواب دیجئے