بنیادی صفحہ / تعلیم و صحت / انٹر ویو: معروف ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال کا خصوصی انٹر یو

انٹر ویو: معروف ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال کا خصوصی انٹر یو

اسلام آباد(شہباز خان)معروف ماہر تعلیم اور وائس چانسلر وفاقی اردو یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر اقبال نے خصوصی انٹریو۔وفاقی اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال کا اپنے خصوصی انٹریو میں کہنا تھا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی نے سو ا دو سال کا وقت گزار ہے وہ بہت ہی افسوسناک تھا ۔یونیورسٹی کے سربراہ ایک جعلی ڈگر ی ہولڈر تھا جب یونیورسٹی کا سر براہ ہی ایک جعلی ڈگر ی ہولڈر ہو اساتذہ اس کی کی کیا عزت کریں گے اور اس میں طلبا ء کس کو اپنا رول ماڈل سمجھیں گے ۔سابق نااہل اور جعلی ڈگر ی ہولڈر اور قائم مقام وائس چانسلر کی طرف سے اقرا پر وری اور کرپشن کی وجہ سے یونیورسٹی کا معیار تعلیم گرا ساتھ ہی یونیورسٹی کی رینکنگ بھی 6سے 32 ویں نمبر پر چلی گئی ۔پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال کا مزید کہنا تھا کہ جب میں نے بطور وائس چانسلر وفاقی اردو یونیورسٹی کا کا چارچ سنھبالا تھا تو اس وقت یونیورسٹی کی رینکنگ 26ویں نمبر پر تھی میں نے انتھک محنت اور ٹیم ورک کے ذریعے یونیورسٹی کی رینکنگ میں20درجے بلند کر کے 6نمبر پر لے آیا تھا لیکن بدقسمتی سے سابق ناہل اور جعلی ڈگر ی ہولڈر اور قائم مقام وائس چانسلر کی وجہ سے صرف سوا دو سال میں یونیورسٹی کا معیار تعلیم اس حد تک گر گیا کہ اب یونیورسٹی 32ویں نمبر پر چلی گئی ۔سوا دو سال قبل یونیورسٹی میں 21000ہزار طلباء زیر تعلیم تھے اب 9000رہ گئی ہے۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ یونیورسٹی میں زیادہ سے زیادہ طلباء کو داخلہ دیا جائے ہم نے اس حوالے سے د اخلہ پالیسی نرم اختیار کی ہے اور طلباء کی سہولیات کے لئے زیادہ سہولیاتی سنٹرز قائم کی ہیں ۔ سابق اور جعلی ڈگری ہولڈر وائس چانسلر کی طرف سے کی جانے والی اقربا پروری اور کرپشن کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر اُن کا کہنا تھا کہ اس نے یونیورسٹی میں کرپشن کی انتہا کر دی ہے دو سالوں میں تین سو پندرہ نئے ملازمین کو عدالت عالیہ کے احکامات کو بھی ہوا میں اُڑاتے ہوئے بھرتی کیا جس کی وجہ سے یونیورسٹی کو سالانہ 8کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑا اوریونیورسٹی کا بجٹ متاثر ہو گیا جب کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن ایک محسو س بجٹ فراہم کر تا ہے جو کہ متعین ہیں ۔ اُن کا مزید کہناتھا کہ جو کرپشن سابقہ سوا دو سالوں میں ہوئی ہے اس کی رپورٹ ہم نے صدر پاکستان ،ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور نیب کو دی ہوئی ہے اُن کے اوپر قانونی کارروائی ہوئی رہی ہے ہم اداروں پر یقین رکھتے ہیں ۔پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال کا مز ید کہنا تھا کہ اردو یونیورسٹی کے ساتھ میرا دلی لگاؤ ہے اور یہ میرا پہلا لو ہے کیونکہ میں نے اپنا کیرئر کا آغاز 39 سال قبل 1978میں اسی ادارے سے شروع کیاتھا جس ادارے کے ساتھ مجھے بے حد پیار تھا اللہ تعالیٰ نے اسی ادارے میں خدمت کرنے کو میرے لئے بہتر سمجھا اور مجھے موقع دیا مجھ سے جو ہو سکا میں وفاقی اردو یونیوسٹی کی بہتری اور اس کی کامیابی کے لئے انتھک محنت کروں گا ۔میں نے اپنی زاتی کتب خانے سے 70000کے قریب کتابیں اردو یونیورسٹی کو ڈونیڈ کیا ۔یونیورسٹی کے بلڈ نگ کے حوالے سے کئے گئے سوال پر اُ ن کا کہنا تھا کہ ہم نے 2015میں یونیورسٹی کے بلڈ نگ کے لئے 41 کروڑروپے کی فیز بیلٹی تیار کی مگر سابقہ وائس چانسلر کی کرپشن کی وجہ سے انہوں نے اخر اجات 61 کروڑ تک بڑ ھا دیا اب ہم نے یہ سارا منصوبہ بیسپاک کے حوالے کر دیا ۔ہائیر ایجوکیشن کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر اُ ن کا کہنا تھا کہ ہائیر ایجوکیشن کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات ہیں نا اہل لوگوں کے اُن کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں تھے۔سابقہ جعلی ڈگری ہولڈر وائس چانسلر کے دور میں نان ٹیچینگ اسٹاف کو بھی ٹیچنگ کی اجازات دی گئی جو کہ تعلیم کے ساتھ ایک مزاق تھا اس سے جہاں یو نیورسٹی پر اضافی مالی بوجھ بڑھا وہی پر یونیورسٹی کا معیار تعلیم بھی گر گیا ہم کو شش کر رہے ہیں کہ اساتذہ کی استعدد کار بڑ ھائیں جس کے لئے ضروری ہے کہ اُن کے ریسرچ کے لئے اُن کو حوصلہ افزائی فراہم کی کیں جائیں ۔ اساتذہ کے لئے ہماری کوشش ہیں کہ زیادہ سے زیادہ ریسرچ پیپرز کی پپلیشنگ کو لازمی بنایا جائے ۔ایک جامعہ سے کم از کم سالانہ سو ریسرچ پیپرز پپلش ہونے چاہیے۔ماہر تعلیم وائس چانسلر وفاقی اردو یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹرظفر اقبال کا جامعات میں شد د پسندی کے عنصر کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا کہ شدد پسندی کا براہ راست تعلق سماج کے ساتھ ہیں اس لئے پہلے سماج کو ٹھیک کر نے کی ضرورت ہے اگر صحیح طور پر منصوبہ بندی نہیں کر یں گے تو جامعات کے ساتھ ساتھ عام زندگی میں بھی حالات ایسی ہی رہیں گے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ یکسان نظام تعلیم کو ملک بھر میں نا فذالعمل کیا جائے اس وقت ملک بھر میں 6 نظام تعلیم کا م کر رہے ہیں ۔سو شل سائنس کی تعلیم کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال کا کہنا تھا کہ کہ سو شل سائنس کسی بھی معاشرے کے لئے بہت اہمیت رکھتی ہے ،ٹیکنیکل ترقی کے ساتھ ساتھ سماجی ترقی بھی ہونی چائیے اُس کے لئے سو شل سائنس کو فروع دینے سے ہی سماجی ترقی ممکن ہو پائے گی ۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ ایک سو 26سال تک کیمبرج یونیورسٹی نے پنجابی کا ڈیپارٹمنٹ آٗقائم رکھا جس سے ترقی یافتہ معاشر وں کی سو شل سائنس میں لگاؤ کا عملی اظہار نظر آتا ہے۔اپنے ذاتی کتب خانے کے 70000ہزار کتابیں وفاقی اردو یونیورسٹی کو ڈونیڈ کر نے کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا کہ اردو یونیورسٹی کے ساتھ میرا دلی لگاؤ ہے اور میں اپنے کیرئر کا آغاز اسی درس گا ہ سے کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اسی ادارے میں مجھے کام کر نے کا موقع دیا جس پر میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں اس لئے اپنی پوری لیبر یری میں موجود 70000 کتابیں میں یونیورسٹی کے لیبریری کو فر ی میں ڈونیش کر تا ہوں کتاب کے بغیر معاشرہ کیسے آگے بڑ سکتا ہے طالب علم کتاب کے بغیر تعلیمی میدان میں آگے نہیں بڑ سکتے ہیں اور پچھلے دو سا ل میں یو نیورسٹی کی لیبر ئری میں ایک بھی نئی کتاب کا اضافہ نہیں کیا گیا ہے میں نے بطور وائس چانسلر اپنی ذ اتی لیبرئر ی کے 70000 کتب یونیورسٹی کو فراہم کرنے میں دلی خوشی محسوس کر تا ہوں۔

تعارف: عارف محمود

جواب دیجئے