بنیادی صفحہ / تعلیم و صحت / اسلامی یونیورسٹی میں تشیکیل پاکستان میں مسلم دنیا کا کردارکے موضوع پر سیمینار کا اہتمام پاکستان کا استحکام پوری امت کا استحکام ہے، پاکستان کے ساتھ معاشی تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں، سعودی سفیر مسلم ممالک کی قیادتیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر مستقبل کے لائحہ عمل پر بحث کریں، شرکاء سیمینار

اسلامی یونیورسٹی میں تشیکیل پاکستان میں مسلم دنیا کا کردارکے موضوع پر سیمینار کا اہتمام پاکستان کا استحکام پوری امت کا استحکام ہے، پاکستان کے ساتھ معاشی تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں، سعودی سفیر مسلم ممالک کی قیادتیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر مستقبل کے لائحہ عمل پر بحث کریں، شرکاء سیمینار

اسلام آباد(شہباز خان) بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے زیر اہتمام ’’تشکیل پاکستان میں مسلم دنیا کا کردار، سعودی عرب ایک مثال‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار کے شرکاء نے کہا ہے کہ پاکستان کا سی پیک منصوبہ اور سعودی عرب کے وژن 2030 ء کے باعث دونوں ممالک جلد اپنے اہداف حاصل کر کے اپنی اہمیت دگنی کر دیں گے ۔قیام پاکستان سے لے کر اب تک دونوں ممالک کے مابین مثالی تعاون دن بہ دن وسیع ہو رہا ہے اور اب معاشی تعاون پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے ،پاکستان کا استحکام پوری مسلم دنیا کا استحکام ہے ۔ اسلامی یونیورسٹی پاک سعودی تعلقات کی بہترین مثال ہے ، مسلم ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر دہشت گردی سے چھٹکارے اورمستقبل کے لائحہ عمل پر بحث کرنا ہو گی۔ان خیالات کا اظہار کرنے والے شرکاء میں سعودی عرب کے سفیر نواف المالکی ، سینیٹر ’’مشاہد حسین سید، اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز ،مسلم لیگ ضیاء کے سربراہ اعجاز الحق ، مولانا طاہر اشرفی، مسلم دنیا کے سفارتکار، صدر اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش اور جامعہ کے سکالرز شامل تھے، جبکہ جامعہ کے نائب صدور اور ڈینز سمیت اساتذہ و طالبات کی بڑی تعداد بھی سیمینار میں شریک تھی۔ اس سیمینار کا انعقاد جامعہ کی کلیہ اصول الدین ، ادارہ تحقیقات اسلامی اور اقبال بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیق مکالمہ نے مل کر کیا تھا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سعودی سفیر نے کہا کہ پاکستان کا استحکام پوری مسلم دنیا کا استحکام ہے، پاکستان نے سی پیک معاہدے اور دیگر اہم منصوبے شروع کر رکھے ہیں جو کہ اس کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ معاشی تعلقات کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کی خوشیاں اور غم سانجھے ہیں، اور پاکستان کے ساتھ تعلقات پر سعودی عرب کو فخر ہے۔ اس موقع پر قبلہ ایاز نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاک سعودی تعلقات بہت گہرے ہیں اور اس مثالی دوستی کو پوری دنیا جانتی ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ ایٹمی دھماکوں کا معاملہ ہو یا قدرتی آفات کا مسئلہ ، ہر گھڑی میں سعودی عرب نے پاکستان کے کندھے سے کندھا ملا کر غم بانٹا ہے۔ اعجاز الحق نے اپنے خطاب میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کی قدر کرنے والا سب سے اہم اور پہلا ملک سعودی عرب ہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے اشتراک سے مسلم دنیا کا ایک ایسا پلیٹ فارم مرتب کیا جائے جہاں دہشت گردی سے چھٹکارسے کے لیے مسلم دنیا کے مستقبل کے لیے لائحہ عمل کی تیاری پر تمام اسلامی ممالک کی قیادتیں بحث کریں۔مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستانی سعودی عرب سے والہانہ محبت کرتے ہیں اور سعودی عرب نے ڈاکٹر الدریویش جیسے لوگوں کو پاکستان میں تعلیمی ترقی کا عزم سونپا ہے جو کہ عظیم خدمت ہے ۔ ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش نے اپنے خطاب میں بتایا کہ یونیورسٹی اسی موضوع پر ایک کانفرنس کا انعقاد کرنے والی ہے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان محبت کا ایسا رشتہ ہے جو بڑھتا ہی جا رہا ہے اور اس میں آج تک کمی واقع نہیں ہوئی ۔ صدر جامعہ نے کہا کہ جامعہ پاکستان کو اقبال کے خواب جیسا ملک اور قائد کی امنگوں پر پورا اترنے والا ملک بنانے کے لیے پر عزم ہے ۔ اس موقع پر ادارہ تحقیقات اسلامی کے سربراہ ڈاکٹر ضیاء الحق نے اپنے خطاب میں قائد کے وژن ، اقبال کے پیغام اور ادارے کی خدمات پر گفتگو کی جبکہ اقبال بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیق و مکالمہ کے سربراہ ڈاکٹر احسن الامین نے اقبال اور پاکستان کے موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی۔ سیمینار سے اسلامی یونیورسٹی کے سکالر نے بھی خطاب کیااور اپنی تحقیق کی روشنی میں پاک سعودی تعلقات پر بحث کی۔

تعارف: عارف محمود

جواب دیجئے