بنیادی صفحہ / اہم ترین / سعودی عرب میں خودکش حملہ پاکستانی شہری نے کیا: سعودی وزارت داخلہ

سعودی عرب میں خودکش حملہ پاکستانی شہری نے کیا: سعودی وزارت داخلہ

Facebooktwittergoogle_pluspinterestlinkedinmail

gulzar-khan2

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پیر کے روز جدہ میں امریکی قونصل خانے کو نشانہ بنانے کی کوشش میں ہلاک ہونے والا خودکش بمبار عبداللہ گلزار خان پاکستانی شہری نکلا اور جدہ میں گزشتہ بارہ سال سے والدین اور بیوی بچوں سمیت رہائش پذیر تھا۔

اس سے قبل سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے بتایا تھا کہ جدہ خودکش بمبار کا تعلق سعودی عرب سے نہیں بلکہ وہ مملکت میں مقیم غیر ملکی ہے، تاہم اس کی شہریت اور نام کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ ترجمان کے مطابق خودکش بمبار کی جیکٹ مکمل طور پر پھٹ نہیں سکی تھی جس کی وجہ سے اس کی شناخت کرنے میں آسانی ہوئی۔

سرکاری ٹی وی نے نے سیکیورٹی ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ حملہ آور نے قونصل خانے کے بالمقابل ہسپتال میں اپنی گاڑی سحری کے وقت سوا دو بجے پارک کی اور جونہی دو سیکیورٹی اہلکار اسے مشتبہ جان کر اس کے قریب آئے تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں وہ خود ہلاک ہو گیا جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں کو معمولی زخم آئے۔

عینی شاہدین نے خبر رساں ایجنسی ‘رائیٹرز’ کو بتایا کہ خودکش دھماکے کی جگہ پر بعد تین مزید دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں جو پولیس کی جانب سے جائے حادثہ پر مشکوک مواد کو ناکارہ بنانے کے لئے پولیس کارروائی معلوم ہوتی ہے۔

جائے حادثہ پر موجود عینی شاہدین کی جانب سے ارسال کردہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے دھماکے سے پہلے گاڑیوں کی اوٹ لیکر اپنے کانوں کو ڈھانپ لیا تھا کہ دھماکے کی آواز سے محفوظ رہ سکیں۔ مزید تفصیل حاصل کرنے کے لئے ‘رائیٹرز’ فوری طور پر حکام سے رابطہ نہیں کر سکی۔ آن لائن نیوز پورٹل ‘سبق’ پر دیکھی جانے والی تصویر میں ایک ٹیکسی کے قریب پڑے انسانی اعضاء خودکش بمبار کے معلوم ہوتے ہیں۔

سرکاری ٹی وی پر جاری بیان میں جائے حادثہ کا ذکر براہ راست سفارتی مشن کے طور پر کرنے کے بجائے اس کا محل وقوع گلی کے پتے پر کیا گیا جو متوقع ٹارگٹ کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش معلوم ہوتا ہے۔

بشکریہ العربیہ، سعودی عرب

Facebooktwittergoogle_pluspinterestlinkedinmail

Comments

FB Login Required – comments

تعارف: haroon

جواب دیجئے